کاروار:16؍ جنوری (ایس اؤ نیوز)مرکزی حکومت کے ’ ساگر مالا‘ منصوبے کے تحت کاروار سمندر بیچ کی توسیع کی سخت مخالفت کرتےہوئے ماہی گیروں کی طرف سے اعلان کردہ16جنوری جمعرات کو ’کاروار بند‘ کو شہری سطح پر مکمل حمایت حاصل رہی ۔ جمعرات کی صبح سے احتجاج شروع کیاگیا ، احتجاج میں ہزاروں ماہی گیروں اور عوام کی شرکت رہی ،جس میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔ خیال رہے کہ منصوبے کی مخالفت میں ماہی گیروں کے احتجاج کا چوتھا دن تھا۔ ڈپٹی کمشنر دفتر کے قریب دھرنا جاری رکھتے ہوئے حکومت کو منصوبے کو رد کرنے کا مطالبہ کیا جارہاہے۔
شہر بھر کی دکانیں، ہوٹل بند تھے،آٹو رکشا ، ٹمپو یونین سمیت مقامی بہت ساری تنظیموں ، اداروں نے حمایت کی ہے۔ آٹو وغیرہ اپنی نقل وحمل بند رکھتے ہوئے بند کی مکمل حمایت کا اعلان کیاہے۔پرائیویٹ سواریوں کی بھاگ دوڑ نہیں کے برابر تھی ۔ سرکاری اسکولس کھلی تھیں البتہ منصوبے کے نزدیک کچھ پرائیویٹ اسکولوں میں چھٹی دی گئی تھی۔ جس کے نتیجےمیں شہر میں سناٹاتھا ۔ پولس سکیورٹی میں اضافہ کرتے ہوئے شہر کے اہم مقامات پر پولس تعینات کئے گئے تھے۔ شہر سے دیگر مقامات کو جانے والی سرکاری بسیں صبح 8بجے تک چلتی رہیں، اس کے بعد پیشگی اقدامات کے طورپر ٹرافک بند کیاگیا ۔ افسران نے بتایا کہ حالات کو دیکھ کر شام 4بجے کے بعد ٹرافک جاری کرنےکےمتعلق غور کریں گے۔ ہاسن سے کاروار پہنچے رئیت سنگھ (ننجوڈ سوامی) کے عہدیداران ، ممبران احتجا ج میں شریک تھے۔
شہر کے اہم راستوں سے احتجاجی ریلی گزری اور ڈی سی دفتر کا گھیراؤ کرنےکی تیاری میں تھے تو ڈی سی خود احتجاجیوں کے پاس پہنچ کر میمورنڈم وصول کیا۔ احتجاج کو دیکھتے ہوئے شاہراہ کے باہرسے گزرنےو الی سواریوں کے لئے متبادل انتظام کیاگیا تھا ۔